’بیٹا ٹیوشن نہیں جانا چاہتا تھا، زبردستی بھیجا اور کہا نہیں جاؤ گے تو ٹیچر ماریں گی‘ | Urdu News

اشتہار

’بیٹا ٹیوشن نہیں جانا چاہتا تھا، زبردستی بھیجا اور کہا نہیں جاؤ گے تو ٹیچر ماریں گی‘

کاہنہ میں معصوم بچوں کے والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے جہاں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوگئے۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے غمزدہ ماں نے بتایا کہ بیٹا ٹیوشن نہیں جانا چاہتا تھا زبردستی بھیجا اور کہا کہ اگر نہیں جاؤ گے تو ٹیچر ماریں گی مجھے تمہاری مار برداشت نہیں۔

ایک خاتون نے کہا کہ حکومت اچھے اسکول بنائے تو بچوں کو ٹیوشن ہی نہ بھیجیں۔

ٹیوشن پڑھنے والے بچوں نے بتایا کہ جیسے ہی چھت پر مٹی ڈالی وہ گر گئی، اہل علاقہ نے سانحہ کا ذمہ دار مالک مکان کو قرار دیا ہے۔

یہ پڑھیں: ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا واقعہ کیسے پیش آیا؟ زخمی ہونے والی خاتون ٹیچر نے سارا قصہ بیان کر دیا

 ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں زخمی ہونے والی خاتون ٹیچر انیلا نے جنرل اسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے دوران اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے اور اپنے کٹھن حالات کی داستان بیان کر دی۔

خوش قسمتی سے خاتون ٹیچر کی بیٹی کی حالت اب بہتر ہے، جسے اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

خاتون ٹیچر انیلا نے اس خوفناک منظر کو یاد کرتے ہوئے بتایا "میں گزشتہ دو سالوں سے اپنے گھر میں چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی ہوں اور روزانہ مجموعی طور پر 30 سے 35 بچے پڑھنے آتے ہیں۔

ٹیچر انیلا نے اپنے کٹھن معاشی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ مالی حالت بالکل اچھی نہیں، گھر کا چولہا جلانے اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے میں نے ٹیوشن پڑھانا شروع کیا تھا کیونکہ میرے شوہر سبزی منڈی کے پاس ریڑھی لگاتے ہیں اور ہماری آمدن بہت کم ہے۔”




Source

Comments

Popular posts from this blog

دہلی میں 19 دن سے جاری بھوک ہڑتال کے بعد سونم وانگچک کی حالت تشویشناک | Urdu News