دارچینی کی کون سی قسم صحت کے لیے بہتر ہے؟ | Urdu News
دارچینی کی کون سی قسم صحت کے لیے بہتر ہے؟
کراچی : دارچینی دنیا بھر میں استعمال ہونے والا معروف مسالہ ہے جسے چائے، کافی، میٹھے پکوانوں اور مختلف کھانوں کا ذائقہ اور خوشبو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بازار میں دستیاب دارچینی بنیادی طور پر مختلف اقسام پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں کاسیا (Cassia) اور سیلون (Ceylon) دارچینی نمایاں ہیں۔
دونوں اقسام ظاہری شکل اور ذائقے میں ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم کیمیائی جزو کومارین کی مقدار کے حوالے سے بھی مختلف ہیں۔
کاسیا دارچینی میں کومارین کی مقدار نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کومارین کو طویل عرصے تک یا زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے جگر پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔
اس کے برعکس سیلون دارچینی میں کومارین کی مقدار بہت کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے باقاعدگی سے یا نسبتاً زیادہ مقدار میں دارچینی استعمال کرنے والے افراد کے لیے اسے بہتر انتخاب سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص کبھی کبھار کھانے یا چائے میں معمولی مقدار میں دارچینی استعمال کرتا ہے تو عام طور پر اس حوالے سے غیرضروری تشویش کی ضرورت نہیں۔
تاہم جو افراد دارچینی کا باقاعدہ یا زیادہ مقدار میں استعمال کرتے ہیں، انہیں کم کومارین والی سیلون دارچینی کو ترجیح دینی چاہیے اور مقدار میں اعتدال برقرار رکھنا چاہیے۔
دارچینی کے ممکنہ طبی فوائد کے حوالے سے بھی مختلف تحقیقات کی جاچکی ہیں، خاص طور پر بلڈ شوگر سمیت بعض صحت کے مسائل پر اس کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا ہے، لیکن موجودہ شواہد اس بات کے لیے کافی نہیں کہ دارچینی یا اس کے سپلیمنٹس کو کسی بیماری کے علاج یا باقاعدہ دوا کے متبادل کے طور پر تجویز کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق دارچینی کو بنیادی طور پر مصالحے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے، اسے دوا سمجھ کر زیادہ مقدار میں استعمال کرنا مناسب نہیں۔
اگر روزمرہ خوراک میں دارچینی باقاعدگی سے شامل کی جاتی ہے تو کم کومارین والی سیلون دارچینی کا انتخاب کیا جاسکتا ہے، تاہم اس کے استعمال میں بھی اعتدال ضروری ہے۔
Post a Comment