صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والی بحری جہاز کی بازیابی: پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی، وزارتِ خارجہ | Urdu News - Urdu news: latest,fast

صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والی بحری جہاز کی بازیابی: پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی، وزارتِ خارجہ | Urdu News

صومالیہ کے قریب پانچ ماہ قبل اغوا ہونے والے بحری جہاز کی بازیابی کا دعویٰ، پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی، وزارتِ خارجہ

تصویر

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق افریقی ملک جبوتی میں پاکستانی مشن کو ایک ایسے بحری جہاز کو قزاقوں سے چھڑانے کی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جسے چند ماہ قبل ’پنٹ لینڈ‘ کے علاقے میں بحری قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق اس جہاز پر 10 پاکستانی شہری بھی یرغمال بنائے گئے تھے۔ تاہم پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق مشن حقائق کا تعین کرنے اور صورتحال کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ سرکاری تصدیق دستیاب ہوتے ہی مزید معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔

اس سے قبل صومالیہ کے شمال مشرق میں نیم خود مختار علاقے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ’دھارین بار‘ کے ساحل کے قریب سمندری آپریشن میں بحری قزاقوں کے قبضے میں جانے والے آئل ٹینکر ’ایم ٹی آنر 25‘ کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

میری ٹائم پولیس نے دعوی کیا ہے کہ کارروائی کے دوران 21 مشتبہ بحری قزاقوں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

میری ٹائم پولیس کے مطابق یہ جہاز اب پنٹ لینڈ حکومت کی تحویل میں ہے۔

خیال رہے کہ ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی بحری جہاز کو رواں برس اپریل میں صومالی قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔ اس جہاز پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ عملے میں انڈونیشین، سری لنکن، انڈین اور میانمار کے شہری بھِی شامل ہیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے انصار برنی ٹرسٹ کے مطابق بحری قزاقوں نے مغویوں کی رہائی کے لیے 30 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔




Source

No comments

Powered by Blogger.