’’بچو بادشاہ‘‘ جس نے برطانوی سامراج کے خلاف متوازی نظامِ حکومت قائم کیا | Urdu News
’’بچو بادشاہ‘‘ جس نے برطانوی سامراج کے خلاف متوازی نظامِ حکومت قائم کیا
تحریر: جہانگیر لغاری
1890ء میں تاجِ برطانیہ کی طاقت
1857ء کی جنگِ آزادی کو ناکام بنانے کے بعد ہندوستان پر مکمل قبضہ کرنے کے لیے 1858ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت ختم کر کے براہ راست برطانوی تاج نے حکومت کا انتظام سنبھالا۔ 1890ء تک آج کے بھارت، پاکستان، بنگلا دیش کا زیادہ تر حصہ برطانوی حکومت کے ماتحت آگیا تھا۔ 560 سےزائد نوابی، راجواڑی ریاستوں نے تاج برطانیہ کی بالادستی کو قبول کر لیا تھا۔ 1890 تک ریلوے، ٹیلی گراف، ڈاک، عدلیہ اور سول سروس کا مضبوط نظام قائم ہو چکا تھا۔ برطانیہ کو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا۔دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی برطانوی سلطنت کے زیراثر تھی۔ اس لیے کہا جاتا تھا کہ یہ ’’یہ وہ سلطنت ہے جس میں سورج غروب نہیں ہوتا۔‘‘
محمد بچل خاصخیلی عرف ’’بچو بادشاہ‘‘ کون تھا؟
سندھ میں انگریز سامراج کے خلاف مزاحمت کرنے والے محمد بچل خاصخیلی عرف بچو بادشاہ 1860 میں مٹھڑاؤ گوٹھ میں وریام فقیر ’’رلی وارو‘‘ کے گھر پیدا ہوئے۔ یہ گاؤں سانگھڑ شہر کے شمال میں 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔ بچو بادشاہ حُر تحریک کے ابتدائی دور کے مجاہدین میں معروف ہیں۔ بچو بادشاہ نے 19 ویں صدی کے آخر میں برطانوی حکومت کو قبول کرنے سے انکار کیا اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے ضلع سانگھڑ میں ’’مکھی‘‘ کے جنگلات کو مزاحمت کا مرکز بنا دیا۔
’’مکھی‘‘ کے جنگلات
یہ گھنا اور خطرناک جنگل شہد، قیمتی لکڑی، جنگلی حیات اور متعدد جھیلوں کی وجہ سے مشہور تھا۔ جنگل میں شہد کے چھتے وافر مقدار میں تھے۔ سندھی میں شہد کو’’ ماکھی‘‘ کہا جاتا ہے، اس لیے مقامی لوگ اس جنگل کو ’’مکھی بیلہ‘‘ کہنے لگے۔ یہ جنگل آج بھی نارا کینال کےقریب واقع ہے۔ برطانوی راج کے خلاف تحریکِ آزادی میں پیر پگارو کے حُر مجاہدین نے ان گھنے اور وسیع رقبے پر پھیلے جنگلات کو اپنی گوریلا جنگ اور عسکری کارروائیوں کا مرکز بنایا۔ یہ علاقہ گھنے درختوں، جھاڑیوں اور جھیلوں پر مشتمل تھا جو انگریز فوجیوں کی نظروں سے بچنے اور روپوش رہنے کے لیے انتہائی موزوں تھا۔ برطانوی مصنف ایڈورڈ کاکس نے لکھا کہ ’’بچو بادشاہ اور ان کے ساتھیوں کو مکھی کے جنگلات کے مقامی لوگوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ برطانوی پولیس دن کے وقت بھی مکھی کے علاقوں میں داخل ہونے سے گریز کرتی تھی۔‘‘
بچو بادشاہ کی برطانوی سرکار کے مقابلے سانگھڑ سرکار
بچو بادشاہ نے اپنے ساتھیوں سمیت مکھی کے جنگلات میں مزاحمت جاری رکھی اور پھر 1890 میں باقاعدہ سانگھڑ، مکھی جنگلات اور اطراف کے وسیع علاقے میں مقامی آبادی کی حمایت سے اپنی آزاد حکومت کا اعلان کیا۔ اپنے قریبی ساتھی پیر بخش وسان کو حکومت کا وزیرمقرر کیا جنہیں پیرو وزیر کہا جانے لگا۔ 10 ارکان پر مشتمل اپنی الگ کابینہ بنائی جس میں تگيو فقير چانگ، گلو فقير مگريو، بالو فقير، مصری فقير، عثمان فقير هنگورو، عيسىٰ فقير ڈڈاہری، خميسو فقير وسان، سومار فقير، فتلو فقير هنگورو اور فقير رانو وسان شامل تھے۔ فتلو فقیر کو حکومت کا قاضی یعنی ’’چیف جسٹس‘‘مقرر کیا گیا۔ خمیسو وسان کو ’’کوتوال‘‘ یعنی علاقہ نگران مقرر کیا گیا۔ اسی طرح دیگر ساتھیوں کو بھی مختلف ذمہ داریاں دی گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس حکومت نے تقریباً 7 لاکھ ایکڑ رقبے پر مضبوطی سے اپنے قدم جمائے۔ بچو بادشاہ کی حکومت کا علاقہ انگریز فوجیوں، پولیس کے لیے نو گو ایریا بن چکا تھا۔ مقامی آبادی اپنے مسائل اور داد رسی کے لیے بچو بادشاہ کی حکومت سے رجوع کرنے لگی۔ بچو بادشاہ کی متوازی حکومت کو حاصل عوامی حمایت انگریز سرکار کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی تھی۔ مکھی کا جنگل انگریز سرکار سے باغیوں کے لیے ایک ہیڈ کوارٹر کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ برطانوی حکومت کے خلاف کارروائیوں کی حکمت عملی اور پھر مجاہدوں کی روپوشی اسی جنگل میں ہونے لگی۔ طاقتور انگریز حکومت کی متعدد کارروائیوں کے باوجود یہ متوازی حکومت کئی سال تک برقرار رہی۔
بچو بادشاہ کو سر عام سزائے موت اور متوازی حکومت کا خاتمہ
برطانوی حکومت نے مکھی کے جنگلات میں بچو بادشاہ اور ان کے ساتھیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اپنے اقتدار کے لیے بڑا چیلنج سمجھا۔ برطانوی حکومت نے مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے مسلسل فوجی اور پولیس کارروائیاں کیں۔ گرفتاری کے لیے مقامی مخبروں کی مدد سمیت مختلف حربے استعمال کیے گئے۔ کئی برس تک فوجی کارروائیوں کے باوجود برطانوی حکام بچو بادشاہ اور ساتھیوں کو آسانی سے گرفتار نہ کر سکے۔ برطانوی حکومت نے سازشوں، مخبریوں سے سخت دباؤ ڈالا۔ مختلف جھڑپوں میں متعدد ساتھی شہید بھی ہوئے جس کے بعد بچو بادشاہ نے ڈپٹی کمشنر آفس میں جاکر گرفتاری دی۔ ان کے خلاف تاج برطانیہ سے بغاوت، سرکاری اہلکاروں سے مسلح تصادم، لوٹ مار دیگر جرائم کی دفعات کے تحت مقدمات چلائے گئے اور پھر بچو بادشاہ کو 1896 میں سرعام پھانسی کی سزا دی گئی۔ بچو بادشاہ کی سانگھڑ سرکار کے خاتمے کے ساتھ مزاحمت کا ایک تاریخی باب اختتام پذیر ہوا۔ متوازی حکومت بکھرنے کے بعد بھی بچو بادشاہ کے دیگر ساتھیوں نے مزاحمت جاری رکھی اور مختلف مواقع پر شہید ہوئے جن میں سے 6 کی قبریں آج بھی سانگھڑ میں موجود ہیں جنہیں ’’منصور‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہی کے نام سے سانگھڑ شہر کے وسط میں یادگار کے طور پر ’’بچو بادشاہ چوک‘‘ بنایا گیا، بچو بادشاہ کی قبر سے متعلق مورخین لکھتے ہیں کہ انہیں مونسپل آفس کے قریب دفنایا گیا تھا، حر تحریک کی شدید مزاحت کو کچلنے کے لیے 1942 میں سندھ میں مارشل لگا۔ برطانیہ نے اس دوران بغاوت کی نشانیوں کو مکمل طور پر مٹانے کے لیے کوششیں کیں جن میں بچو بادشاہ کی قبر بھی شامل تھی۔ آج اس جگہ کے قریب مسجد قائم ہے۔
Comments
Post a Comment