وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر سوال، گڈ گورننس اور نئے صوبوں پر فیصلہ عوام اور سیاسی قیادت نے کرنا ہے: فوج کے ترجمان | Urdu News

وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر سوال، گڈ گورننس اور نئے صوبوں پر فیصلہ عوام اور سیاسی قیادت نے کرنا ہے: فوج کے ترجمان

ISPR

،تصویر کا ذریعہPTV

پریس بریفنگ کے دوران صحافی ابصار عالم اور عامر الیاس رانا نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے گڈ گورننس اور نئے صوبوں سے متعلق حالیہ بیان پر سوالات اٹھائے، جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ وزیر داخلہ نے اس معاملے پر اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا ہے اور وہ اس پر مزید تبصرہ نہیں کریں گے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ گڈ گورننس پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ موضوع ہے اور ملک کو درپیش متعدد مسائل کا حل مؤثر حکمرانی اور بہتر انتظامی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے بقول گورننس کا عمل جمود کا شکار نہیں رہ سکتا کیونکہ وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی، آبادی اور ریاستی ضروریات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عوام کی خواہشات ہی سب سے اہم ہیں اور گڈ گورننس یا انتظامی اصلاحات سے متعلق کوئی بھی فیصلہ عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی رائے کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کے تمام سیاسی اور انتظامی معاملات کا راستہ آئین، قانون اور جمہوری عمل سے ہو کر گزرتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاق رائے موجود ہے، جبکہ انسداد دہشت گردی، مدارس سے متعلق اصلاحات اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی جیسے معاملات بھی بہتر حکمرانی کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی جانب بڑھنا ہوگا اور اس حوالے سے ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1972 میں ملک کی آبادی تقریباً چار سے پانچ کروڑ تھی اور چار صوبے تھے، جبکہ آج آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، اس لیے یہ بحث جائز ہے کہ آیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ گڈ گورننس کی ضروریات پوری کر رہا ہے یا نہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام یا دیگر انتظامی تبدیلیوں سے متعلق فیصلے سیاسی جماعتوں، منتخب قیادت اور جمہوری عمل کے ذریعے ہونے چاہییں۔ ان کے بقول یہ طے کرنا سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں بہتر حکمرانی کے لیے کس نوعیت کی تبدیلیاں درکار ہیں۔




Source

Comments

Popular posts from this blog

دہلی میں 19 دن سے جاری بھوک ہڑتال کے بعد سونم وانگچک کی حالت تشویشناک | Urdu News