’لقمان کو نماز کے بعد روٹیاں لے کر گھر آنا تھا:‘ کوہاٹ دھماکے میں اکلوتے بیٹے اور بھتیجے کے ساتھ ہلاک ہونے والے ’رضا کار‘ | Urdu News
’لقمان کو نماز کے بعد روٹیاں لے کر گھر آنا تھا:‘ کوہاٹ دھماکے میں اکلوتے بیٹے اور بھتیجے کے ساتھ ہلاک ہونے والے ’رضا کار‘

،تصویر کا ذریعہMohammad Tanveer
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
’میں کافی دیر سے لقمان کو فون کر رہی ہوں، مگر وہ فون نہیں اُٹھا رہے۔ ان کے ساتھ بچے بھی ہیں۔ وہ نماز پڑھنے نکلے تھے جس کے بعد اُنھوں نے روٹیاں لے کر گھر آنا تھا۔‘
محمد تنویر کوہاٹ میں اپنے دفتر میں کام کر رہے تھے، جب اُن کی بہن نے گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں اپنے شوہر اور بچوں کے حوالے سے اُن سے استفسار کیا۔
فون رکھتے ہی محمد تنویر نے اپنے بہنوئی لقمان کے نمبر پر کال کی تو کوئی جواب نہیں آیا۔ دو، تین مرتبہ کال ملانے کے بعد بھی جب لقمان نے فون نہ اُٹھایا تو اسی دوران تنویر کو کوہاٹ پولیس لائنز دھماکے کی اطلاع مل گئی۔
تنویر نے یہ خبر سنتے ہی ہسپتال کا رُخ کیا اور اس دوران متعدد بار اپنے بہنوئی لقمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو اس دوران کسی اور شخص نے فون اُٹھایا اور کہا کہ ’آپ جو بھی ہیں فوراً ہسپتال آ جائیں۔‘
محمد تنویر ہسپتال پہنچے تو انھیں وہاں پر محمد لقمان کی لاش نظر آئی اور کچھ ہی دیر بعد اُنھیں دو ننھے بچوں کی بھی لاشیں مل گئیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز جمعے کی نماز کے دوران کوہاٹ پولیس لائنز دھماکے میں 17 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 23 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ جوابی کارروائی کے دوران سکیورٹی حکام نے آٹھ حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہMohammad Tanveer
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے بتایا تھا کہ پہلے اولڈ پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی جس کے بعد خودکش حملہ اور سمیت سات مسلح دہشت گردوں نے کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’مسجد پر دھماکے کے بعد کچھ شدت پسند سپیشل برانچ کی عمارت میں داخل ہو گئے تھے، جس کے بعد پولیس، ایلیٹ فورس، کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سکیورٹی فورسز نے کارروائی شروع کی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترجمان خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن رات گئے جاری رہا اور سنیچر کی صبح اس علاقے کو کلیئر قرار دیا گیا۔
تنویر نے بی بی سی نیوز اُردو کو بتایا کہ عبداللہ کی عمر تقریباً ساڑھے چار سال ہے اور وہ لقمان کا بیٹا ہے جبکہ دوسرے بچے کا نام اسد ہے جو لقمان کا بھتیجا ہے اور اس کی عمر ساڑھے تین سال ہے۔
تنویر کے مطابق عبداللہ لقمان کا اکلوتا بیٹا تھا اور اُنھوں نے سوگواروں میں بیوہ اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں جس میں سب سے چھوٹی بیٹی نو ماہ کی ہے۔
’مسجد کے درمیان میں تھا کہ زوردار دھماکہ ہوا‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کوہاٹ دھماکے میں لقمان کے دوست مسکین بھی زخمی ہوئے، جنھیں ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے محمد مسکین نے بتایا کہ لقمان نے اپنے بچوں کو سکول سے سے لیا تھا اور راستے میں نماز کا وقت ہوا تو وہ نماز کے لیے چلے گئے، جہاں اُن کی ملاقات لقمان سے ہوئی۔
محمد مسکین کا کہنا تھا کہ ’میں نماز کی تیاری کر کے آیا تھا۔ میں نے لقمان کو کہا کہ وہ وضو وغیرہ کر لے اور پھر نماز کے بعد ملتے ہیں اور ان بچوں کو کچھ کھانے پینے کی چیزیں دلا دیتے ہیں اور ہم چائے وغیرہ پی لیں گے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ’میں نماز کے لیے چلا گیا اور مسجد کے درمیان میں تھا کہ اچانک دھماکہ ہوگیا۔ چند لمحوں تک کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ میں ہوش و حواس کھو چکا تھا۔ چند لمحے تو اسی طرح گزر گئے، مجھے ہوش اس وقت آیا جب وہاں پر موجود ایک شخص نے مجھے بازو سے پکڑ کر ایمبولینس میں ڈالا اور میں ہسپتال پہنچ گیا۔‘
محمد مسکین کا کہنا تھا کہ ’مجھے زیادہ چوٹ نہیں لگی تھی معمولی خراشیں تھیں جن پر مرہم پٹی کردی گئی اور پھر میں ہسپتال ہی میں رک گیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد ہسپتال پہنچ گئی تھی جو زخمیوں کی خدمت کررہے تھے، خون دے رہے تھے۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ لقمان کی ڈیڈ باڈی کو ایمولینس سے اتارا جا رہا ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد ان کے بچوں کی ڈیڈ باڈیز بھی ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔
محمد مسکین کا کہنا تھا کہ لقمان الخدمت کا رضا کار بھی تھے اور الخدمت کی ایمبولینس میں ہی ان کی ڈیڈ باڈی کو آبائی علاقے لیجایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’کوہاٹ میں جب بھی کسی کو خون کی ضرورت پڑتی تو وہ لقمان سے رابطہ کرتا تھا‘
محمد لقمان پیشے کے لحاظ سے لیبارٹی ٹیکیشن تھے۔ وہ ایک نجی لیبارٹری کے علاوہ رفاہی تنظیم الخدمت فاونڈیشن کے رضا کار اور بلڈ ڈونیشن کے ضلعی صدر بھی تھے۔
محمد تنویر کا کہنا تھا کہ ’لقمان الخدمت ہسپتال میں لیبارٹری ٹیکنیشن کی ملازمت کرتے ہیں جبکہ محمد لقمان الخدمت فاونڈیشن کے رضا کار تھے اور میرے بہنوئی ہونے کے علاوہ وہ میرے ماموں زاد بھی تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کوہاٹ میں جب بھی کسی کو خون کی ضرورت پڑتی تو وہ فوراً لقمان سے رابطہ کرتا تھا اور لقمان فوری طور پر ان کے لیے خون کا انتظام کرتے تھے۔
تنویر کہتے ہیں کہ دن ہو یا رات لقمان ہر وقت سر گرم عمل رہتے تھے۔ کوہاٹ میں کوئی بھی حادثہ ہو جاتا تو یہ فوراً موقع پر پہنچ جاتے یا ہسپتال پہنچ جاتے تھے اور وہاں جا کر خدمت کیا کرتے تھے۔
’لقمان کی عمر 37 برس تھی، انھوں نے ماسٹر کیا ہوا تھا مگر انھیں ملازمت نہیں ملی تو انھوں نے لیبارٹری ٹیکنیشن کا کورس کرکے کام شروع کر دیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہMohammad Tanveer
تنویر کہتے ہیں کہ لقمان بچوں کے حوالے سے بہت حساس تھے اور اُنھیں اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے۔
محمد تنویر کا کہنا تھا کہ ’اس سال انھوں نے عبداللہ کا داخلہ کروایا تھا۔ اس داخلے کی فیس انھوں نے ادھار لی تھی یہ بات انھوں نے کسی کو نہیں بتائی تھی مگر مجھے میری بہن نے بتایا تھا اور جب میں نے پوچھا تو کہنے لگے کہ ایک کمیٹی ڈال دی ہے، مجھے دوسری کمیٹی ملی گئی تو یہ قرض اتار دوں گا۔‘
’میں نے کہا کہ اتنے مہنگے سکول میں داخلہ کروانے کی کیا ضرورت تھی تو کہنے لگے کہ بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلانی تاکہ وہ زندگی میں کچھ بن جائے۔‘
محمد تنویر کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنی بچیوں کی تعلیم پر بھی بہت توجہ دیتے تھے۔ اپنی بڑی بیٹی کو روزانہ خود پڑھاتے تھے اور اس سے کہتے تھے کہ اس نے بیٹی نہیں بیٹا بننا ہے اور پڑھائی کر کے اپنا مستقبل بنانا ہے۔‘
محمد تنویر کا کہنا تھا کہ محمد لقمان کی والدہ چار ماہ پہلے وفات پا گئیں تھیں جس کے بعد وہ اپنے بوڑھے والد کا بھی سہارا تھے اور والد کی خدمت کیا کرتے تھے۔




Post a Comment