ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں اضافہ | Urdu News

اشتہار

ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں اضافہ

امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد ایرانی کرنسی میں نمایاں بہتری جبکہ ڈالر کی قدر میں کمی سامنے آئی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے ہونے والے معاہدے کے بعد ایرانی کرنسی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اوپن مارکیٹ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایرانی ریال کی قدر میں 15 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کے سبب مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال ہوا ہے اور سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی عمل کی بحالی سے اقتصادی صورتحال بہتر ہوگی۔

غیر ملکی زرِمبادلہ کی شرح پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ "پشیزی ڈاٹ کام” کے اعداد و شمار کے مطابق اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت گزشتہ ہفتے تقریباً 18 لاکھ 10 ہزار ریال تھی جو بدھ کے روز کم ہوکر 15 لاکھ 20 ہزار ریال تک آگئی۔

ایران کی سرکاری کرنسی ریال ہے، تاہم مقامی مارکیٹ میں شرح مبادلہ عموماً تومان میں بیان کی جاتی ہے، جہاں ایک تومان 10 ریال کے برابر ہوتا ہے اس حساب سے 15 لاکھ 20 ہزار ریال، ایک لاکھ 52 ہزار تومان کے مساوی ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ بہتری ایرانی کرنسی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے جو جنگی اخراجات، بلند افراطِ زر اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد مارچ میں ڈالر کی قیمت تقریباً 19 لاکھ 30 ہزار ریال کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی، جس سے ایرانی کرنسی کی قدر میں تاریخی کمی دیکھی گئی تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی پیش رفت برقرار رہی تو ایرانی معیشت اور کرنسی کو مزید استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔




Source

Comments

Popular posts from this blog

دہلی میں 19 دن سے جاری بھوک ہڑتال کے بعد سونم وانگچک کی حالت تشویشناک | Urdu News