پاکستان اور قطر کی درخواست پر ایران معاہدے کا متن نہیں جاری کر رہے: امریکہ | Urdu News
تین ایرانی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی عبور کر گئے

جہازوں کے ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق خام تیل سے لدے تین ایرانی ٹینکر خلیجِ عمان میں امریکی ناکہ بندی کو عبور کر چکے ہیں۔
ان میں سے دو نے ناکہ بندی عبور کرتے وقت اپنی لوکیشن نشر کی، جبکہ تیسرا ٹینکر اس حد سے ذرا آگے جا کر اپنا لوکیشن ٹریکر فعال کرتا دکھائی دیا۔
اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایرانی بندرگاہوں پر ’فوری طور پر‘ ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن بعد میں امریکی بحری افواج نے تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہونے تک ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ یہ دستخط جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔
ونڈورڈ میری ٹائم انٹیلیجنس کی سینیئر تجزیہ کار مشیل ویزے بوک مین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا: ’یہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران کو یقین ہے کہ ناکہ بندی ختم ہو چکی ہے، چاہے امریکہ اصرار کر رہا ہے کہ یہ جمعہ تک برقرار رہے گی۔‘
ایران کے جھنڈے تلے چلنے ٹینکرز ڈیونا، ہیرو ٹو اور سونیا ون نیشنل ایرانیئن ٹینکر کمپنی کی ملکیت ہیں، جس پر امریکی وزارتِ خزانہ کی طرف سے پابندیاں عائد ہیں جو ان جہازوں پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔
ایران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جو اس خدشے کے باعث لگائی گئی ہیں کہ ملک جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں کی مبینہ ایرانی حمایت اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی ان پابندیوں کی وجہ ہیں۔
میرین ٹریفک کے ڈیٹا کے مطابق ہیرو ٹو اور سونیا ون منگل کے روز ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے روانہ ہوئے، جہاں اس وقت کئی دیگر ایرانی ٹینکر بھی لنگر انداز ہیں۔
ڈیونا نامی ٹینکر نے گذشتہ روز امریکی ناکہ بندی کی حد عبور کرنے کے فوراً بعد اپنی لوکیشن نشر کرنا شروع کر دی، یہ ناکہ بندی عمان کے مشرقی سرے سے ایران کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔
سمندری انٹیلیجنس فرم ونڈورڈ کے مطابق مارچ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ان ایرانی ٹینکروں میں سے کسی نے اپنی لوکیشن نشر کی ہے،اور اگر یہ اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ کام کے مطابق یہ دو ماہ بعد ایران کی پہلی تیل برآمدات ہوں گی۔
ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ کام کے مطابق یہ تینوں جہاز مجموعی طور پر 3.8 ملین بیرل خام تیل لے جا رہے ہیں۔ فی الحال یہ جہاز اپنی متوقع منزلوں کی معلومات نشر نہیں کر رہے۔
Comments
Post a Comment