’خلیجی ملک کسی بھی بہانے سے اپنی سرزمین پر حملے قبول نہیں کریں گے‘ | Urdu News
’خلیجی ملک کسی بھی بہانے سے اپنی سرزمین پر حملے قبول نہیں کریں گے‘
سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی سے محاذ آرائی کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔
برکس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ خلیجی ملک کسی بھی بہانے اپنی سرزمین پر حملے قبول نہیں کریں گے خلیج کی سلامتی اسوقت تک یقینی نہیں ہوسکتی جب تک خودمختاری کا احترام نہ ہو۔
فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا خلیج کا امن اور استحکام عالمی معیشت کی سلامتی سے جڑا ہے۔
پاکستان
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔
ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ ڈرون حملے علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان اس کڑے وقت میں سعودی عرب کی قیادت، حکومت اور وہاں کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔
ایران
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ ایران کی سعودی عرب کے ساتھ کوئی جنگ نہیں۔ سعودی عرب پر حملہ کرنے والوں حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ آپس میں لڑنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ بارہا کہا ہے خطے کے تمام ممالک کو ایک میز پر بیٹھ کر امن و سلامتی کیلیے بات کرنی چاہیے۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کل مسقط میں آبنائے ہرمز پر عمان میں ہونے والے مذاکرات میں وہ تمام ممالک شریک ہوں گے، جن کی سر زمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے بین الاقوامی حقوق چاہتا ہے جنگ نہیں، ہم اب بھی امن کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایک سوال پر ایرانی صدر نے کہا خدا کا شکر ہے کہ ہمارے رہبر معظم زندہ ہیں اور پہلے کی طرح نظام کے اندر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دشمن ان کے ٹھکانے کا سراغ لگانے میں ناکام رہا ہے۔
عراق سے ڈرون حملہ، سعودی عرب نے تیل کی بڑی پائپ لائن بند کر دی
Post a Comment