ہندو انتہا پسندوں کی ’’تاج محل‘‘ میں زبردستی پوجا کی کوشش | Urdu News

اشتہار

ہندو انتہا پسندوں کی ’’تاج محل‘‘ میں زبردستی پوجا کی کوشش

آگرہ (6 اگست 2026): ہندو توا گروپ کے ارکان نے مغل حکمران کی یادگار اور لازوال عمارت تاج محل کو بھی اپنی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی۔

بھارتی ہندو انتہا پسندوں کی دست برد سے مسلم ثقافت سے وابستہ کوئی چیز محفوظ نہیں۔ مساجد، مدارس کے بعد اب انہوں نے مغل بادشاہ شاہ جہاں کا اپنی بیگم ممتاز محل کے لیے تعمیر کیے گئے تاج محل کو بھی اپنی انتہا پسندی سے آلودہ کرنے کی کوشش کی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ہندو مہاسبھا کے ضلعی صدر میرا راٹھور کی قیادت میں تنظیم کے کارکن اور خواتین گزشتہ روز صبح 7 بجے پوجا کے لیے تاج محل پہنچے اور زبردستی اس میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

انتہا پسند گروپ کا دعویٰ تھا کہ تاج محل حقیقت میں ایک قدیم شیو مندر تھا۔

تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں محبت کی اس لازوال عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا، جس پر ہندو توا ارکان اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

واضح رہے کہ تاج محل ایک محفوظ تاریخی یادگار ہے، جہاں مذہبی رسومات کی ادائیگی پر پابندی عائد ہے، اسی وجہ سے پولیس نے ہندوتوا کے کارکنوں کو یادگار کے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



Source

Comments

Popular posts from this blog

دہلی میں 19 دن سے جاری بھوک ہڑتال کے بعد سونم وانگچک کی حالت تشویشناک | Urdu News