ناظم آباد : ویرانہ مہذب مقام میں کیسے بدلا؟ حیران کن داستان | Urdu News

اشتہار

ناظم آباد : ویرانہ مہذب مقام میں کیسے بدلا؟ حیران کن داستان

کراچی : شہر قائد کا وہ تاریخی علاقہ ناظم آباد جو اپنی شاندار تہذیب، علمی و ادبی روایات اور بھارت سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہونے والی نامور شخصیات کے سبب شہر کی اصل پہچان بنا۔

لیاری ندی کے کنارے آباد ہونے والی بستی نے مہاجرین کے زخموں کو امید میں بدلا اور ان مہاجرین نے کراچی کی ثقافتی، ادبی اور تعلیمی شناخت کو نئی جہت دی۔

آج کا ناظم آباد کراچی کے مصروف ترین اور قدیم رہائشی علاقوں میں شمار ہوتا ہے، مگر ایک وقت ایسا بھی تھا جب شہر کی حدود لیاری ندی کے پل پر آ کر ختم ہوجاتی تھیں۔

اس کے آگے دور دور تک سنسان میدان، گھنے جنگلات اور جنگلی جانوروں کی آماجگاہ تھی جبکہ لوگ لیاری ندی میں مچھلیاں پکڑتے دکھائی دیتے تھے۔

اس ویرانے کی تقدیر قیامِ پاکستان کے بعد اس وقت بدلی جب برصغیر سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کی آبادکاری کے لیے اس وقت کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے یہاں ایک نئی بستی بسانے کا منصوبہ بنایا، اسی نسبت سے اس نئی آبادی کا نام ناظم آباد رکھا گیا۔

حکومت نے یہ غیر آباد علاقہ بلوچ قبائلی رہنما مستی بروہی خان سے خریدا اور مہاجر خاندانوں کو انتہائی کم قیمت پر پلاٹ فراہم کیے۔ اس وقت شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو کہ یہی سنسان میدان ایک دن کراچی کی سب سے باوقار، مہذب اور ادبی بستیوں میں شمار ہوگا۔

ہجرت کے بعد نئی زندگی کا آغاز

سال 1952 میں اس ویران زمین پر تعمیرات کا آغاز ہوا۔ مستریوں نے اوزار سنبھالے، مزدوروں نے بنیادیں کھودیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اینٹ، سیمنٹ اور لوہے سے ایک نئی بستی وجود میں آنے لگی۔

ہندوستان سے آنے والے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت مہاجر خاندانوں نے اپنے ہاتھوں سے گھر تعمیر کیے، جبکہ گھریلو خواتین نے ان مکانات کو محبت، تہذیب اور سلیقے سے ایک پُرسکون گھرانے کی شکل دی۔

ابتدائی طور پر ناظم آباد 5 بلاکس پر مشتمل رہائشی منصوبہ تھا، جو رضویہ اور فردوس کالونی کے بعد آباد ہونا شروع ہوا، یہ علاقہ دو آبی گزرگاہوں کے درمیان واقع تھا، جس نے اسے رہائش کے لیے موزوں بنایا۔

علم، ادب اور تہذیب کا مرکز

ناظم آباد صرف اتر پردیش، دہلی اور لکھنؤ سے آنے والے مہاجرین تک محدود نہیں تھا بلکہ مشرقی پنجاب اور گجراتی بولنے والے خاندان بھی یہاں آباد ہوئے۔ ان تمام افراد کی ایک مشترکہ خصوصیت ان کا تعلیم یافتہ، باشعور اور ادب دوست ہونا تھا۔

چند ہی برسوں میں ناظم آباد کراچی کی علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا، جہاں شعرا، اساتذہ، دانشور اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کی نمایاں شخصیات آباد ہوئیں۔

 

 تاریخی علاقہ ناظم آباد سیاست میں بھی اہم کردار

1965 کے صدارتی انتخابات کے دوران ناظم آباد کی اکثریتی آبادی نے قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناحؒ کی حمایت کی، انتخابی مہم کے دوران جسٹس لاری کا گھر فاطمہ جناحؒ کی انتخابی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا۔

اسی دور میں سیاسی کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی اور بعض مقامات پر پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ حالات معمول پر آئے اور ناظم آباد نے دوبارہ اپنی تعلیمی اور ثقافتی شناخت حاصل کرلی۔

کئی نامور شخصیات کی رہائش

ناظم آباد نے کئی ایسی شخصیات کو جنم دیا یا ان کی میزبانی کی جنہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔

جن میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، نامور شاعرہ پروین شاکر، لیجنڈ اداکار معین اختر، ٹی وی کے نامور اداکار قاضی واجد، پروگرام میزبان قریش پور معروف شاعر افتخار عارف اور دیگر شامل ہیں، ان ہی شخصیات میں  یاسمین لاری بھی ہیں جو پاکستان کی پہلی خاتون آرکیٹیکٹ، ممتاز سماجی کارکن اور عالمی شہرت یافتہ ماہر تعمیرات ہیں۔

انہوں نے شہری منصوبہ بندی، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور کم لاگت رہائشی منصوبوں کے ذریعے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر منفرد شناخت دلائی۔

Dr Abdul qadeer Khan

ہر گھر کی اپنی علیحدہ پہچان

1950سے 1970 کی دہائی تک ناظم آباد خوشحالی، تعلیم اور نفاست کی علامت سمجھا جاتا تھا، کشادہ سڑکیں، صاف ستھرا ماحول، کھلے میدان اور سرسبز درخت اس علاقے کی شناخت تھے۔

گھروں کے سامنے خوبصورت پودے، بیلیں، گملے اور پھل دار درخت عام منظر پیش کرتے تھے۔ صحنوں میں رات کی رانی، سبزیاں اور خوشبودار پودے گھروں کی رونق بڑھاتے تھے، جبکہ خواتین گھریلو باغبانی کو خصوصی اہمیت دیتی تھیں۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ اس دور میں گھروں کو صرف نمبر نہیں دیے جاتے تھے بلکہ ان کے خوبصورت نام بھی رکھے جاتے تھے، جیسے کہکشاں، نشیمن، کاشانہ، بتول اور مصطفیٰ منزل وغیرہ۔

کراچی کی شناخت بننے والا علاقہ

چند برسوں میں ناظم آباد صرف اینٹ اور پتھر کی بستی نہیں رہا بلکہ تہذیب، شائستگی، علم، امید اور ثقافت کی علامت بن گیا۔

یہی وجہ ہے کہ اسے آج بھی کراچی کی تاریخ کے اہم ترین رہائشی علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں ماضی کی خوشبو آج بھی پرانے گھروں، گلیوں اور یادوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

(جاری ہے)

 

اہم ترین

مدثر نذیر
مدثر نذیر
مدثر نذیر نے پاکستان کے مختلف مین اسٹریم چینلز میں انوسٹیگیٹو جرنلزم میں نمایاں کام کیا اور ایک بڑے نجی چینل میں بطور بیورو چیف خدمات انجام دی ہیں۔ ڈنمارک میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق متعدد دستاویزی پروگرام بھی ان کی ذمہ داری میں شامل رہے۔ علاوہ ازیں، وہ سرکاری اداروں جیسے ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کی پروڈکشن ٹیم کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔ مدثر نذیر کے انوسٹیگیٹیو اسٹورز، جیسے کراچی کے "نائنٹی ٹو آپریشن" اور ایم کیو ایم پر رپورٹس، ان کی شناخت اور مقبولیت کی وجہ بنیں۔ ان کی ایکسپرٹ بیٹس میں خصوصی طور پر ایجوکیشن اور ہیلتھ کے موضوعات شامل ہیں۔ فی الوقت وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم زاویہ، جو ایک ڈاکومنٹری چینل ہے، کے ہیڈ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں



Source

Comments

Popular posts from this blog

دہلی میں 19 دن سے جاری بھوک ہڑتال کے بعد سونم وانگچک کی حالت تشویشناک | Urdu News