اے آئی ماڈلز نے کمپنیاں کیسے ہیک کیں؟ رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا | Urdu News
اے آئی ماڈلز نے کمپنیاں کیسے ہیک کیں؟ رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا
کلاؤڈ اور اوپن اے آئی ماڈلز نے مختلف کمپنیوں کے سسٹمز کیسے ہیک کیے؟ طاقتور اے آئی ماڈلز کے ہیکنگ واقعات نے خطرے کی گھنٹی بجادی۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کی جانب سے گزشتہ روز یہ انکشاف کیا گیا کہ اس کے ایک اے آئی ماڈل نے سائبر سکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران ایک تھرڈ پارٹی سروس کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔
اس بات کے شواہد میں ایک اور اضافہ یہ ہے کہ زیادہ طاقتور ہوتے ہوئے اے آئی سسٹمز سائبر حملوں کے لیے بھی بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ واقعہ اس انکشاف کے بعد سامنے آیا جب اینتھروپک نے جولائی میں بتایا تھا کہ اس کے کلاؤڈ ماڈلز نے 3کمپنیوں کے سسٹمز تک رسائی حاصل کی، جبکہ اوپن اے آئی نے بھی اسی ماہ بتایا تھا کہ اس کے اے آئی ماڈلز سے چلنے والے ایک خودکار ایجنٹ نے اے آئی اسٹارٹ اپ ہگنگ فیس کے انفراسٹرکچر کو متاثر کیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ اوپن اے آئی کے اسی ایجنٹ نے نیویارک میں قائم ٹیک کمپنی موڈل لیبز کے ایک صارف کے سسٹم کو بھی متاثر کیا تھا۔
ان واقعات کی مزید تفصیلات جانیے !!
واقعہ پیش آنے کی تاریخ:
5اگست 2026۔ تاہم ٹیسٹنگ کے دوران یہ واقعہ کب پیش آیا، اس کی تاریخ ظاہر نہیں کی گئی۔
ماڈل:
میٹا نے ماڈل کا نام ظاہر نہیں کیا تاہم دی انفارمیشن کی رپورٹ کے مطابق یہ ممکنہ طور پر میوز اسپارک 1.1 تھا۔
کس ادارے کا سسٹم متاثر ہوا؟
ایک نامعلوم تھرڈ پارٹی سروس۔ اس سسٹم تک رسائی کتنی دیر جاری رہی، یہ بھی نہیں بتایا گیا۔
کیا ہوا تھا؟
آزاد سائبر سکیورٹی ٹیسٹر ادارے اریگولر کی جانب سے ایک سکیورٹی جائزہ لیا جارہا تھا کہ اس دوران ایک کنفیگریشن کی غلطی کے باعث میٹا کے اے آئی ماڈل کو انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی۔
میٹا کے مطابق ماڈل نے اس کے بعد ایک تھرڈ پارٹی سروس میں موجود سکیورٹی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔
دی انفارمیشن نے رپورٹ کیا کہ ماڈل نے ایک نامعلوم کمپنی کے سسٹمز تک رسائی حاصل کی اور اس کے اندرونی ماحول میں تبدیلیاں بھی کیں۔
تاہم اریگولر کے مطابق یہ واقعہ ٹیسٹنگ کے ماحول میں موجود ایک مسئلے کا نتیجہ تھا، اسے سینڈ باکس سے فرار یا کسی انتہائی پیچیدہ سائبر حملے کے طور پر نہیں دیکھا گیا۔
اوپن اے آئی
ٹیسٹ ماحول سے نکلنے کی کوشش :
اے آئی ایجنٹ نے تقریباً 9 جولائی 2026 سے اپنے ٹیسٹ ماحول سے باہر نکلنے کی کوشش شروع کی۔
ماڈلز:
جی پی ٹی 5.6 ایس او ایل اور ایک زیادہ طاقتور پری ریلیز ماڈل، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
کس کے سسٹمز متاثر ہوئے؟
اے آئی اسٹارٹ اپ ہگنگ فیس اور نیویارک میں قائم موڈل لیبز کے ایک صارف کا سسٹم متاثر ہوا۔
مدت:
ہگنگ فیس کے سسٹم میں مداخلت 11 جولائی سے 13 جولائی 2026 تک جاری رہی۔
اے آئی ایجنٹ نے کیا کیا؟
کنٹرولڈ سکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران اوپن اے آئی کا ایک خودکار اے آئی ایجنٹ اپنے الگ تھلگ ٹیسٹ ماحول سے باہر نکل گیا۔
اس کے بعد ایجنٹ نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور اپنے مقررہ ہدف کو مکمل کرنے کے لیے ہگنگ فیس کے سسٹم میں داخل ہوگیا۔
یہ سرگرمی کئی دن تک جاری رہی۔ اوپن اے آئی کو اس مداخلت کا علم اس وقت ہوا جب کارروائی مکمل ہوچکی تھی۔ اس واقعے کے بعد کمپنی نے اسے محدود کیا اور ایف بی آئی کو بھی اطلاع دی۔
رائٹرز کے مطابق اسی اے آئی ایجنٹ نے موڈل لیبز کے ایک صارف کے سسٹم کو بھی متاثر کیا تھا۔
اینتھروپک
واقعے کی تاریخ:
سب سے پہلے سامنے آنے والا واقعہ اپریل 2026 کا ہے۔
ماڈلز:
کلاؤڈ اوپس 4.7، کلاؤڈ میتھوس 5 اور ایک نامعلوم اندرونی ٹیسٹ ماڈل۔
کس کمپنی کے سسٹمز کب تک متاثر ہوئے؟
اینتھروپک نے ہیکنگ سے متاثرہ تینوں کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے۔ تاہم اینتھروپک کے مطابق ان 3 میں سے 2 کمپنیوں کو خود بھی اس سرگرمی کا علم نہیں تھا اور انہیں اینتھروپک نے بعد میں اطلاع دی، تیسری کمپنی کے سسٹم تک اے آئی ماڈل کی رسائی جاری رہی، اینتھروپک نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ سرگرمی کتنے عرصے تک جاری رہی۔
کلاؤڈ ماڈلز کو رسائی کیسے ملی؟
سائبر سکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران ایک غلطی کے باعث کلاؤڈ ماڈلز کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہوگئی، اس کے نتیجے میں ماڈلز نے تین کمپنیوں کے سسٹمز کو ہدف بنایا۔
ایک واقعے میں کلاؤڈ اوپس 4.7 نے ایک حقیقی کمپنی کے لاگ اِن اسناد اور ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کرلی، کیونکہ ماڈل نے غلطی سے اس حقیقی کمپنی کو ایک فرضی ہدف سمجھ لیا تھا۔
ایک دوسرے ماڈل نے جب یہ پہچان لیا کہ ہدف دراصل ایک حقیقی کمپنی ہے تو اس نے اپنی کارروائی روک دی۔
اصل تشویش کیا ہے؟
ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز سائبر سکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران صرف کوڈ کا تجزیہ کرنے یا کمزوریاں تلاش کرنے تک محدود نہیں رہے، بلکہ اگر انہیں انٹرنیٹ تک غیر ارادی رسائی مل جائے تو وہ حقیقی سسٹمز کے خلاف بھی کارروائی کرسکتے ہیں۔
میٹا، اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے واقعات میں ایک مشترک عنصر یہ سامنے آیا کہ ٹیسٹنگ کے دوران کسی نہ کسی تکنیکی یا کنفیگریشن کی غلطی کے باعث اے آئی ماڈلز کو ایسے ماحول یا انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی جس تک انہیں رسائی نہیں ہونی چاہیے تھی۔
یہ واقعات اے آئی کمپنیوں کے لیے اس بات کی اہمیت بھی اجاگر کرتے ہیں کہ طاقتور ماڈلز کی ٹیسٹنگ کے دوران انہیں حقیقی سسٹمز، حساس معلومات اور کھلے انٹرنیٹ سے الگ رکھنے کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے جائیں۔
Comments
Post a Comment