نسلہ ٹاور کیس کے فیصلے کے بعد چیئرمین آباد کا بڑا مطالبہ | Urdu News
نسلہ ٹاور کیس کے فیصلے کے بعد چیئرمین آباد کا بڑا مطالبہ
کراچی : چیئرمین آباد (ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز) حسن بخشی نے نسلہ ٹاور کیس میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو بلا تاخیر مکمل معاوضہ ادا کیا جائے کیونکہ گزشتہ 8 برسوں کے دوران انہیں شدید مالی اور ذہنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اے آر وائی نیوز سے خصوصی کرتے ہوئے حسن بخشی نے کہا کہ اگرچہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی خوش آئند ہے، تاہم انصاف میں 8 سال کی تاخیر نے متاثرہ خاندانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض نسلہ ٹاور متاثرین معاوضے کے انتظار میں انتقال کرگئے جبکہ کئی خاندان آج بھی اپنے حق کے منتظر ہیں۔
انہوں نے سابق چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد کے دور میں نسلہ ٹاور کیس کی سماعت کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں معمول کے عدالتی مراحل پر عمل نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق عام طور پر مقدمات نچلی عدالت سے شروع ہو کر ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک پہنچتے ہیں تاکہ ہر مرحلے پر فیصلے پر نظرثانی کا موقع موجود رہے لیکن نسلہ ٹاور کیس براہِ راست ازخود نوٹس کے تحت سپریم کورٹ میں سنا گیا اور فیصلے پر فوری عملدرآمد بھی کرا دیا گیا۔
حسن بخشی نے کہا کہ کراچی کے حالات 1950 کی دہائی سے یکسر مختلف ہیں، اس وقت شہر کی آبادی تقریباً 30 لاکھ تھی جبکہ آج یہ تین کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے، اس لیے موجودہ شہری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے تجویز دی کہ نسلہ ٹاور کی اراضی فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم متاثرہ مالکان اور رہائشیوں کو معاوضے کی صورت میں دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور سندھ حکومت کو بھی اس عمل میں مالی تعاون کرنا چاہیے تاکہ متاثرین کو جلد از جلد ریلیف مل سکے۔
چیئرمین آباد نے مزید کہا کہ اس معاملے میں تمام متعلقہ اداروں کو انسانی ہمدردی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا ازالہ یقینی بنانا چاہیے۔
Comments
Post a Comment