حماس کا غزہ کی پٹی کا سیاسی کنٹرول چھوڑنے کا اعلان، خامنہ ای کی آخری رسومات میں ’امریکہ، اسرائیل سے انتقام‘ کے نعرے | Urdu News
برطانیہ کا روسی طیارے کو ناروے کے سمندر کے اوپر روکنے اور دور بھگانے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ برطانوی جنگی طیاروں نے ناروے کے سمندر میں ایک روسی بحری گشت کرنے والے طیارے کو اس وقت روکا، جب وہ کیریئر سٹرائیک گروپ کے ’بار بار قریب آ رہا تھا‘۔
وزارتِ دفاع کے مطابق روسی بیئر-ایف (Bear-F) طیارہ کم بلندی پر پرواز کرتا ہوا ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز طیارہ بردار جہاز کے ’غیر ضروری حد تک قریب‘ آ گیا تھا، اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے جمعرات کو سمندر میں 10 سونوبوائز بھی گرائے۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ ناروے کے سمندر میں ماسکو کی سرگرمی ’غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ‘ تھی۔
یہ واقعہ ان ہفتوں کے بعد پیش آیا ہے جب رائل میرینز نے انگلش چینل میں روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے ایک آئل ٹینکر پر کارروائی کی تھی، جبکہ برطانوی فوج کے سربراہ خبردار کر چکے ہیں کہ برطانیہ کو درپیش خطرات اور خدشات سرد جنگ کے بعد کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔
برطانیہ کا کیریئر سٹرائیک گروپ اس وقت نیٹو کی کمان کے تحت آئس لینڈ کے قریب تعینات ہے، جس پر 1,500 برطانوی اہلکار موجود ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ نیٹو نے کسی یورپی طیارہ بردار جہاز سے فضائی نگرانی کی کارروائیاں انجام دی ہیں۔
جن نگرانی کے آلات کو بیئر-ایف طیارے کی جانب سے گرایا گیا، ان کے متعلق سمجھا جاتا ہے، وہ پانی کی سطح پر تیرتے ہیں اور آبدوزوں اور دیگر جہازوں کا پتا لگانے کے لیے سونار استعمال کرتے ہیں۔
برطانوی افواج نے بین الاقوامی مواصلاتی فریکوئنسیوں پر روسی طیارے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اس کے بعد دو ایف-35 طیارے پرنس آف ویلز سے اڑے اور بیئر-ایف طیارے کو کیریئر سٹرائیک گروپ سے دور لے گئے۔
چیف آف دی ڈیفنس سٹاف سر رچرڈ نائٹن نے جون میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ روس ’ہماری دفاعی صلاحیتوں کو جانچ رہا ہے، چیلنج کر رہا ہے اور آزمائش میں ڈال رہا ہے‘ اور ’خطرات بڑھا رہا ہے اور حدود عبور کرنے کے قریب پہنچ رہا ہے۔‘
نیٹو پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ روس 2030 تک فوجی طاقت استعمال کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment