سلطان شمس الدین التمش : جس نے چنگیز خان کو برصغیر میں داخلے سے روک دیا | Urdu News

اشتہار

سلطان شمس الدین التمش : جس نے چنگیز خان کو برصغیر میں داخلے سے روک دیا

نئی دہلی : تاریخ میں بعض شخصیات اور کردار ایسے ہوتے ہیں جن کی زندگی کسی افسانے سے کم نہیں ہوتی۔ سلطان شمس الدین التمش کی داستان بھی ان ہی میں سے ایک ہے، جو غلامی کی زنجیروں سے نکل کر دہلی سلطنت کے طاقتور ترین حکمران بنے اور اپنی دانش، جرأت مندی اور سیاسی بصیرت سے برصغیر کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑ گئے۔

حاسد بھائیوں کا ظلم

روایت کے مطابق التمش وسط ایشیا کے ایک معزز ترک خاندان میں پیدا ہوئے۔ حسن، ذہانت اور غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے وہ اپنے والد کے محبوب بیٹے تھے مگر یہی بات ان کے بھائیوں کے لیے حسد کا سبب بن گئی۔

کہا جاتا ہے کہ ایک روز ان کے بھائیوں نے بہانے سے گھر سے دور لے جا کر انہیں تاجر کے ہاتھ فروخت کر دیا، یوں ایک آزاد نوجوان غلامی کی منڈیوں میں جا پہنچا۔

حاسد بھائیوں کا ظلم

بخارا، بغداد اور غزنی کی منڈیوں سے گزرتے ہوئے آخرکار وہ دہلی جا پہنچے، جہاں اس وقت کے گورنر قطب الدین ایبک نے انہیں خرید لیا۔ ایبک، جو خود بھی ماضی میں غلام رہ چکے تھے، التمش کی صلاحیتوں کو فوراً پہچان گئے۔

سلطان شمس الدین التمش کی زندگی کا اہم موڑ کھوکھروں کیخلاف جنگ تھی، اس موقع پر انہوں نے اپنی بہادری کے وہ جوہر دکھائے اس وقت کے سلطان شہاب الدین غوری نے حکم دیا کہ اس غلام کے ساتھ بہترین سلوک کیا جائے جس کے بعد گورنر قطب الدین ایبک نے انہیں آزاد کردیا۔

انہوں نے نہ صرف انہیں اعلیٰ فوجی اور انتظامی ذمہ داریاں دیں بلکہ بعد میں اپنی بیٹی کا نکاح بھی ان سے کر دیا، یوں ایک غلام شاہی خاندان کا حصہ بن گیا۔

التمش کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت

1210میں قطب الدین ایبک کی اچانک وفات کے بعد سلطنت انتشار کا شکار ہوگئی۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے دہلی کے امرا نے شمس الدین التمش کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی اور 1211ء میں وہ سلطنتِ دہلی کے تخت پر بیٹھ گئے، تاہم اقتدار سنبھالتے ہی انہیں اندرونی بغاوتوں اور بیرونی خطرات کا سامنا کرنا پڑا، جنہیں انہوں نے تدبر اور عسکری مہارت سے شکست دی۔

چنگیز خان

چنگیز خان ہٹنے پر کیسے مجبور ہوا؟ 

سلطان شمس الدین التمش کی زندگی کا سب سے اہم امتحان 1221ء میں آیا، جب منگول فاتح چنگیز خان، خوارزم کے شہزادے جلال الدین منکبرنی کا تعاقب کرتے ہوئے دریائے سندھ تک پہنچ گیا۔

روایت کے مطابق جلال الدین نے دہلی میں پناہ طلب کی، مگر التمش نے نہایت محتاط سفارتی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے ایسا فیصلہ کیا جس سے نہ صرف براہِ راست جنگ ٹل گئی بلکہ سلطنتِ دہلی بھی منگول حملے سے محفوظ رہی اس نے جلال الدین کو چند تحائف کے ساتھ  ایک خط ارسال کیا کہ ہندوستان کی آب و ہوا تمہارے حق
لیے موزوں نہیں بہتر ہوگا وہ یہاں قیام نہ کریں۔ جس کے بعد شہزادہ جلال الدین منکبرنی اور منگول فاتح چنگیز خان واپس اپنے راستے پر ہولیے۔

کامیاب معاشی اصلاحات

سلطان التمش نے صرف جنگی میدان ہی میں کامیابیاں حاصل نہیں کیں بلکہ انتظامی اصلاحات بھی نافذ کیں۔ انہوں نے سلطنت میں معیاری چاندی کے ٹنکہ اور تانبے کے جیتل کے سکوں کو رائج کر کے کرنسی کے بکھرے ہوئے نظام کو منظم کیا، جس سے تجارت کو استحکام ملا۔ اسی دور میں قطب مینار کی نامکمل تعمیر بھی مکمل کرائی گئی، جو آج بھی دہلی کی تاریخی شناخت سمجھی جاتی ہے۔

1229میں عباسی خلیفہ نے انہیں باقاعدہ ’سلطانِ ہند‘ کی سند عطا کی، جس سے ان کی حکومت کو اسلامی دنیا میں بھی قانونی اور سیاسی حیثیت حاصل ہوئی۔ انصاف کے نظام، انتظامی اصلاحات اور اہل افراد کی سرپرستی نے انہیں برصغیر کے مؤثر حکمرانوں میں شامل کر دیا۔

RAZIYA SULTAN

انتقال سے قبل سلطان کا حیران کن فیصلہ

1236ء میں طویل علالت کے بعد سلطان شمس الدین التمش کا انتقال ہوا، لیکن وفات سے قبل انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔

انہوں نے اپنے بیٹوں کے بجائے اپنی صاحبزادی رضیہ سلطان کو جانشین نامزد کیا، جو بعد میں دہلی سلطنت کی پہلی خاتون حکمران بنیں۔

غلامی سے سلطنت تک کا یہ سفر آج بھی اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ تاریخ میں عظمت کا معیار انسان کی پیدائش نہیں بلکہ اس کے کردار، فیصلے اور کارنامے ہوتے ہیں۔




Source

Comments

Popular posts from this blog

دہلی میں 19 دن سے جاری بھوک ہڑتال کے بعد سونم وانگچک کی حالت تشویشناک | Urdu News