بجلی کا بل آتا ہے تو ہر گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں اہم سوالات اٹھ گئے | Urdu News

اشتہار

بجلی کا بل آتا ہے تو ہر گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں اہم سوالات اٹھ گئے

اسلام آباد : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ کے چیئرمین کمیٹی رانا محمود الحسن کا کہنا ہے کہ بجلی کا بل آتا ہے تو ہر گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے، اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت ہوا ، اجلاس میں بجلی شعبے کی کارکردگی، لوڈشیڈنگ، صارفین کو درپیش مسائل اور نیپرا حکام کی مراعات سے متعلق اہم سوالات اٹھائے گئے۔

اجلاس میں نیپرا چیئرمین سے تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر مراعات کی مکمل تفصیلات طلب کر لی گئیں۔

سینیٹر ایمل ولی نے بجلی شعبے کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے مسائل کی ذمہ داری صرف نیپرا پر نہیں بلکہ وفاقی حکومت بھی اس کی ذمہ دار ہے، بڑے شہروں سے باہر کئی علاقوں میں آج بھی 20 سے 22 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ جاری ہے۔

ایمل ولی نے لائن لاسز اور بجلی چوری کا بوجھ صارفین پر ڈالنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

کمیٹی نے نیپرا اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) سے سولر نیٹ میٹرنگ درخواستوں، زیر التوا کیسز اور گرین میٹرز کی تنصیب سے متعلق تفصیلات طلب کر لیں۔

چیئرمین کمیٹی نے نئے بجلی کنکشنز، ڈیمانڈ نوٹس کے باوجود تاخیر، ڈیڈکشن بلز اور دیگر معاملات پر بھی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں چیئرمین کمیٹی رانا محمود الحسن نے کہا کہ بجلی کا بل آتا ہے تو ہر گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے، اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔




Source

Comments

Popular posts from this blog

دہلی میں 19 دن سے جاری بھوک ہڑتال کے بعد سونم وانگچک کی حالت تشویشناک | Urdu News