لوگوں نے کہا مویشی آپ کو گھور رہے ہیں، بائیکر بریرہ خان کی دلچسپ روداد | Urdu News
لوگوں نے کہا مویشی آپ کو گھور رہے ہیں، بائیکر بریرہ خان کی دلچسپ روداد
پاکستان کی معروف خاتون بائیکر بریرہ خان نے کہا ہے کہ تنہا موٹر سائیکل پر ملک کے مختلف علاقوں کا سفر ان کے لیے صرف شوق نہیں بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جس نے انہیں مضبوط اور خوداعتماد بنایا۔
اے آر وائی پوڈ کاسٹ میں بریرہ خان نے تنہا موٹر سائیکل پر پاکستان کے دور دراز علاقوں کے سفر کے دوران پیش آنے والے خوفناک لمحات واقعات، عوامی رویوں اور سیاحتی تجربات پر کھل کر گفتگو کی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ سفر کے دوران انہیں دلچسپ، حیران کن اور بعض اوقات خوفناک حالات کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے کبھی اپنے حوصلے کو کمزور نہیں ہونے دیا۔
بریرہ خان نے بتایا کہ ملتان میں بنائی گئی ایک ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے، انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں ان کے پیچھے موجود مویشیوں کو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین نے لکھا کہ آپ کو مویشی گھور رہے ہیں، لیکن انہیں ایسے تبصروں سے کبھی کوئی فرق نہیں پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ جنگل سے گزر رہی تھیں جہاں دور دور تک کوئی انسان موجود نہیں تھا۔ اسی دوران ان کی موٹر سائیکل کا انجن زیادہ گرم ہوگیا۔ انہوں نے ایک اجنبی شخص کو اپنا سامان دیا تو اس نے راستے میں روک کر مشورہ دیا کہ کچھ دیر یہاں رک جائیں کیونکہ بائیک ہیٹ اپ ہوچکی ہے۔
بریرہ نے اعتراف کیا کہ ایسے سنسان مقامات پر کبھی کبھار خوف ضرور محسوس ہوتا ہے، تاہم احتیاط اور اعتماد کے ساتھ انہوں نے ہر مشکل کا سامنا کیا۔
بریرہ خان نے اپنے سفر کا ایک اور سنسنی خیز واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی عطاء آباد ٹنل سے گزرتے ہوئے اچانک ان کی موٹر سائیکل بند ہوگئی۔ طویل سرنگ کے اندر پیش آنے والا یہ واقعہ ان کے لیے انتہائی پریشان کن تھا، تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بعد ازاں محفوظ مقام تک پہنچ گئی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پاکستان کے خوبصورت علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے کشمیر کو اپنا پسندیدہ مقام قرار دیا اور کہا کہ کشمیر واقعی "جنت نظیر” ہے، جہاں قدرتی حسن ہر مسافر کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔
بریرہ خان نے سیاحت کے شعبے میں مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ کیے جانے والے رویے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک مقام پر دیکھا کہ غیر ملکی جوڑے کو مفت کیمپنگ کی سہولت دی گئی، جبکہ ایک پاکستانی ہونے کے باوجود ان سے اضافی رقم وصول کی گئی۔ ان کے بقول، "ہم اس ملک کے میزبان ہیں، ہمیں اپنے ہی ملک میں مہمانوں سے کم اہمیت نہیں ملنی چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی سیاحوں کو بھی وہی عزت اور سہولیات دی جائیں جو بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کو دی جاتی ہیں۔
Comments
Post a Comment