میں نے بال لگوائے ہیں، کیا اس میں پلیسینٹا استعمال ہوا؟ جج افضل مجوکہ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے | Urdu News

اشتہار

میں نے بال لگوائے ہیں، کیا اس میں پلیسینٹا استعمال ہوا؟ جج افضل مجوکہ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے

اسلام آباد : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں جج افضل مجوکہ نے انسانی اعضاء کیس میں استفسار کیا "میں نے بھی بال لگوائے ہیں، کیا اس میں پلیسینٹا استعمال ہوا؟” جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں انسانی اعضاء کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران جج اور وکیلِ صفائی کے درمیان ہیئر ٹرانسپلانٹ پر دلچسپ مکالمہ ہوا۔

دورانِ سماعت وکلاء صفائی موقف اختیار کیا کہ پلیسینٹا کو انسانی اعضاء میں شمار نہیں کیا جاتا بلکہ اس کا طبی استعمال ہوتا ہے، بال لگوانے کے جدید طریقہ کار میں پلیسینٹا ٹشوز کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اس پر جج افضل مجوکہ نے ریمارکس دیئے "میں نے بھی بال لگوائے ہیں، کیا اس میں بھی پلیسینٹا استعمال ہوا ہے؟”، جس پر وکیلِ صفائی نے جواب دیا کہ جی بالکل، طبی طور پر بال لگوانے کے عمل میں پلیسینٹا ٹشوز کا 100 فیصد استعمال ہو سکتا ہے۔

وکیلِ صفائی کا کہنا تھا کہ انسانی اعضاء میں صرف آنکھیں، گردے اور دل وغیرہ شامل ہوتے ہیں، جبکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں نکال کر جلا یا دفنا دیا جاتا ہے، جیسے انسانی جسم سے نکالا گیا پِتہ۔

اس پر جج افضل مجوکہ نے مسکراتے ہوئے کہا "میرا بھی پِتہ نکالا گیا تھا، اب پتا نہیں وہ کہاں ہوگا؟ ، جس پر وکیلِ صفائی کا کہنا تھا "کیا پتا ایف آئی اے نے اس چکر میں بھی کسی کو پکڑ کر جیل بھجوا دیا ہو!” اس مکالمے پر عدالت میں موجود افراد قہقہے لگانے پر مجبور ہو گئے۔

دوسری جانب سرکاری وکیل (پراسیکیوٹر) نے ملزمان کی ضمانتوں کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے ایک ہزار سے زائد انسانی پلیسینٹا برآمد کیے گئے ہیں اور اس مکروہ دھندے میں ملوث تمام ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا ہے۔

پراسیکیوٹر نے میڈیکل ایکسپرٹس کی رپورٹس بھی عدالت میں جمع کرواتے ہوئے استدعا کی کہ ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی جائیں۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ملزمان کی ضمانتوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو جلد سنایا جائے گا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



Source

Comments

Popular posts from this blog

دہلی میں 19 دن سے جاری بھوک ہڑتال کے بعد سونم وانگچک کی حالت تشویشناک | Urdu News