Skip to main content

فیفا ورلڈ کپ 2026: سپین ارجنٹینا کو فائنل میں شکست دے کر دوسری بار فٹبال کا عالمی چیمپئن بن گیا | Urdu News

فیفا ورلڈ کپ 2026: سپین ارجنٹینا کو فائنل میں شکست دے کر دوسری بار فٹبال کا عالمی چیمپئن بن گیا

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں سپین

،تصویر کا ذریعہUAN MABROMATA

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں سپین نے دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کو 1-0 سے شکست دے کر ورلڈ کپ جیت لیا ہے۔

نیویارک نیو جرسی سٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں کھیل کے مقررہ 90 منٹ میں دونوں ٹیمیں کوئی گول نہ کر پائی تھیں اور یوں میچ اضافی وقت میں داخل ہوا۔

فیصلہ کن گول سپین کے فیران توریس نے اضافی وقت کے دوسرے ہاف میں کیا جس سے سپین کو برتری حاصل ہوئی اور پھر اس فتح کے ساتھ سپین نے 16 سال بعد دوسری بار ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔

ارجنٹینا اور سپین کے درمیان ورلڈ کپ کی ٹرافی کے لیے سخت مقابلہ جاری رہا اور آخرکار کھیل کے تقریبا 105 منٹ سے زائد گزرنے کے بعد سپین نے پہلا گول حاصل کر کے برتری حاصل کی۔

جیت کے لیے درکار اس گول کی ابتدا سپین کے نیکو ولیمز اور پیڈرو پورو کی عمدہ پیش قدمی سے ہوئی تھی جب سپین کے پیڈرو پورو نے گیند دور پوسٹ کی جانب بھیجی جہاں نیکو ولیمز نےاسے برقرار رکھا اور سر کے ذریعے اسے آگے بڑھا دیا۔

اس کے بعد فیران توریس نے وہ طاقتور شاٹ لگایا، جو سیدھا نیٹ کی چھت میں جا لگا۔ فیران توریس کی شاندار فنشنگ کے گول کے ساتھ سپین نے میچ میں برتری حاصل کر لی۔

اس سے قبل عالمی کپ جیتنے کا اعزاز ارجنٹینا کے پاس رہا تھا۔ اس میچ کی خاص بات یہ بھی رہی کہ لیونل میسی نے اپنے کیریئر کا تیسرا ورلڈ کپ فائنل کھیلا تاہم یہ ورلڈ کپ کا واحد میچ تھا جہاں لیونل میسی پچ پر اپنا معمول کا جادو دکھانے میں ناکام رہے اور فائنل میں گول نہ کر سکے۔

فیفا ورلڈ کپ 2026

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کھیل کے دوران کیا کچھ ہوا

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اضافی وقت میں نیکو ولیمز نے 96 ویں منٹ میں گول کا آغاز کیا لیکن ریفری نےمتنازع قرار دے کر سپین کو گول دینے سے انکار کر دیا تھا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

نیویارک نیوجرسی سٹیڈیم میں ورلڈکپ فٹبال کا فائنل دفاعی چیمپین ارجنٹینا اور سابق عالمی چیمپئن سپین کے درمیان کھیلا جو پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے شروع ہوا۔

کھیل کے آغاز سے پہلے ہاف تک سپین نے گویا کھیل پر نسبتاً زیادہ کنٹرول رکھا اور چند مواقع پیدا کیے، تاہم ارجنٹینا کا دفاع بھی مضبوط رہا اور وقفے تک ارجنٹینا اور سپین کے درمیان مقابلہ 0-0 سے برابر رہا تھا۔

اگرچہ سپین اور ارجنٹینا کے درمیان ورلڈ کپ کا فائنل پہلے ہاف کے اختتام تک بہترین کھیل اور دفاع کے باوجود بغیر کسی گول کے برابر رہا تاہم کھیل کے 41ویں منٹ کے قریب ارجنٹینا کے دفاعی پلیئر لیساندرو مارتینیز کو سپین کے میکل اویارزابال پر فاؤل کرنے پر میچ کا پہلا زرد کارڈ (ییلو کارڈ) وارننگ کے طور پر دکھایا گیا۔

لیساندرو نے اویارزابال کو پیچھے سے گرا دیا، جس پر ریفری نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی جیب سے کارڈ نکال لیا۔

ارجنٹینا کے دفاعی کھلاڑی لیساندرو مارتینیز انجری کے باعث میچ جاری نہ رکھ سکے اور انھیں میدان سے باہر جانا پڑا اور ان کی جگہ نکولس اوٹامینڈی کو میدان میں اتارا گیا۔

کھیل کے دوسری ہاف کے دوران 93 ویں منٹ میں اینزو فرنانڈیز کو دوسرا وارننگ کارڈ ملنے پر میچ سے باہر بھیج دیا گیا تھا۔

فیفا فائنل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈینی اولمو ایک بہترین پاس پر آگے تو بڑھے لیکن مارک کوکورییا کی جانب ان کا پاس گونزالو مونتیئل نے ناکام بنایا

لیونل میسی ورلڈ کپ کے فائنل میں میچ پر کوئی فیصلہ کن اثر نہ ڈال سکے گو کہ 39 سالہ میسی اس ورلڈ کپ میں آٹھ گول کر کے ارجنٹینا کے سب سے اہم کھلاڑیوں میں شامل رہے۔ خاص طور پر انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں انھوں نے اپنی ٹیم کے دونوں گولز میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

تاہم فائنل میں سپین نے میسی کو مؤثر کھیل پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔ وہ صرف ایک شاٹ ہی لگا سکے، جو ہدف پر نہیں تھا جبکہ سپین کے دفاع نے انھیں گول کے لیے خطرناک سمجھے جانے والے ایریا سے دور رکھا۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق فائنل میچ میں میسی کو ارجنٹینائن کی حکمت عملی سے بھی زیادہ مدد نہیں ملی۔ ٹیم اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنے کے بجائے سپین کو روکنے اور اس کی رفتار توڑنے پر زیادہ توجہ دیتی دکھائی دی۔

میچ کے اختتام پر میسی کی ایک تصویر بھی بہت وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ گراؤنڈ میں سر جھکائے سوچ میں گم بیٹھے ہیں۔

Messi

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمیچ کے اختتام پرمیسی گراؤنڈ میں سر جھکائے سوچ میں گم بیٹھے ہیں

سپین کے مڈفیلڈر روڈری نے پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ جیتا جس کے بعد انھوں نے مڈفیلڈرز میں اپنی جگہ مزید مضبوط کر لی ہے۔

روڈری پہلے ہی بیلن ڈی آر، چیمپیئنز لیگ، یورپی چیمپیئن شپ اور پریمیئر لیگ جیت چکے ہیں جبکہ اب ان کے اعزازات میں ورلڈ کپ اور ورلڈ کپ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی شامل ہو گیا ہے۔

اس کامیابی کے بعد وہ دنیا کے سب سے کامیاب اور زیادہ اعزازات جیتنے والے فٹبالرز میں شمار کیے جاتے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں دلچسپ باتوں میں سر فہرست اس کی شاندار تقریبات تھیں جس کو فٹ بال کے ساتھ ساتھ میوزک سے دلچسپی رکھنے والوں نے بھی خوب داد دی۔

شکیرا کی پرفارمنس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننیویارک نیو جرسی سٹیڈیم میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے دوران شکیرا پرفارم کر رہی ہیں

پہلے ہاف کے بعد ہونے والے خصوصی میوزیکل شو میں میڈونا، شکیرا، جسٹن بیبر اور بی ٹی ایس کی پرفارمنس کو سوشل میڈیا پر بھی خوب سراہا گیا وہیں ایرانی موسیقار بیجان مرتضوی کے میڈونا کے ساتھ وائلن بجانے کو بھی خوب داد ملی۔

اس خصوصی شو میں دیگر مختلف ممالک کے موسیقاروں نے بھی شرکت کی۔

زرد لباس میں ملبوس درجنوں ڈانسرز کے ہمراہ شکیرا نے جیسے ہی پرفارمنس کا آغاز کیا پورا سٹیڈیم موسیقی کی دھن پر جھوم اٹھا اور شائقین نے بھرپور انداز میں ان کا ساتھ دیا۔

سوشل میڈیا پر سپین کے ’ایک گول‘ کی دھوم

فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے فٹ بال کو پسند کرنے والے مداحوں نے اتوار کے روز فائنل میچ کے اغاز سے اختتام تک ہر ہر لمحے پر تبصرے کیے۔

بشیر چوہدری نامی ایک صارف نے سپین کے کھیل کی تعریف کی تاہم ان کے مطابق بازی ارجنٹینا کے گول کیپر لیتے رہے۔ ان کی پرفارمنس پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے ایکس پر لکھا۔

’کیا ہی دلچسپ مقابلہ تھا، لیکن ارجنٹینا کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ ٹیم میں اگر کسی نے واقعی متاثر کیا تو وہ گول کیپر تھے، جنھوں نے کئی بار اہم بچاؤ کیے۔۔‘

سپورٹس جرنلسٹ فیضان لاکھانی نے لکھا کہ ’ سپین نے فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ وہ ورلڈ کپ جیتنے والی ایسی ٹیم بنی جو پورے ٹورنامنٹ کے دوران ایک بھی منٹ کے لیے خسارے میں نہیں رہی۔‘

اس سے قبل اٹلی (1938 اور 1982) اور جرمنی (1990) یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔

میڈرڈ زون نے ایکس پر سپین اور ارجنٹینا کے کھیل کو سراہتے ہوئے لکھا کہ ’سپین ورلڈ کپ کی تاریخ کی پہلی ٹیم بن گئی ہے جس نے ٹورنامنٹ میں صرف ایک گول کیا اور پھر بھی ٹائٹل اپنے نام کیا۔‘

بہت سے صارفین ایسے بھی ہیں جنھوں نے میسی کے لیے خیر سگالی کے پیغامات لکھے اور کچھ نے لکھا کہ ’ارجنٹینا نے بھرپور مزاحمت کی، لیکن آخرکار اسے شکست قبول کرنا پڑی۔‘

فیفا ورلڈ کپ فائنل

،تصویر کا ذریعہPA Media

فیفا کی ٹرافی کب کس کے حصے میں

واضح رہے کہ یہ 2010 میں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد پہلی بار رہا کہ جب سپین نے فائنل تک رسائی حاصل کی جبکہ مجموعی طور پر یہ اس کا دوسرا ورلڈ کپ فائنل تھا جس میں اسے ارجنٹینا پر فتح حاصل ہوئی۔

اس کے مقابلے میں ارجنٹینا ساتویں بار ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا ہے اور اس سے قبل تین فائنلز (1978، 1986 اور 2022) میں اس نے ٹرافی کو جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔

اب تک اگر ورلڈ کپ جیتنے والی قومی ٹیموں کی فہرست پر نگاہ ڈالیں تو برازیل نے اب تک پانچ بار (1958، 1962، 1970، 1994، 2002) میچ کا فائنل جیت کر کامیابی حاصل کی۔

اٹلی نے چار بار (1934، 1938، 1982، 2006) میں ٹرافی اپنے نام کی، جرمن نے چار مرتبہ، (1954، 1974، 1990، 2014)، ارجنٹینا نے تین بار (1978، 1986، 2022)، یوگرائے نے دو بار(1930، 1950) فرانس نے دو بار (1998، 2018) فائنل میچ جیتا جبکہ انگلینڈ نے 1966 میں ٹرافی حاصل کی۔

فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب تین ممالک امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا نے مل کر ان مقابلوں کی میزبانی کی تاہم ان تینوں کا سفر اس ورلڈ کپ میں اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔

فٹبال ورلڈ کپ 2026 میں مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے گئے جو امریکہ کے 11، میکسیکو کے تین اور کینیڈا کے دو شہروں میں منعقد ہوئے۔




Source

Comments

Popular posts from this blog

دہلی میں 19 دن سے جاری بھوک ہڑتال کے بعد سونم وانگچک کی حالت تشویشناک | Urdu News