موبائل فون خریدنے سے پہلے پی ٹی اے کا اسٹیٹس کیسے چیک کریں؟ | Urdu News
موبائل فون خریدنے سے پہلے پی ٹی اے کا اسٹیٹس کیسے چیک کریں؟
اسلام آباد (26 جون 2026): پی ٹی اے ہدایت کرتا ہے کہ صارف تصدیق شدہ موبائل خریدیں لیکن شہری خریدتے وقت پی ٹی اے کا اسٹیٹس کیسے چیک کریں؟
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے موبائل فون منظور شدہ اور مناسب طریقے سے رجسٹرڈ ہیں، تاکہ وہ سروس میں خلل سے بچ سکیں۔
اب عام شہری موبائل کی خریداری کے وقت پی ٹی اے کا اسٹیٹس کیسے چیک کرے؟۔
اس حوالے سے عوامی آگہی کے پی ٹی اے نے اپنے ڈیوائس آئیڈینٹی فکیشن، رجسٹریشن اور بلاکنگ سسٹم (DIRBS) کی وضاحت کی ہے، جو ملک میں غیر قانونی، غیر تصدیق شدہ، اور کلون شدہ موبائل فونز کے استعمال کو روکنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔
اس سسٹم کے تحت، غیر تصدیق شدہ غیر ملکی درآمد شدہ موبائل فون کی شناخت (IMEI) نمبروں والے موبائل فونز کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔
پی ٹی اے نے صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ موبائل فون خریدنے سے پہلے ڈیوائس کی تفصیلات چیک کریں اور تصدیق کریں کہ معلومات اصل فون کے ریکارڈ سے ملتی ہیں۔
IMEI تفصیلات کیسے حاصل کریں؟
صارفین PTA CMS موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے اور اپنے آلات پر *#06# ڈائل کر کے IMEI تفصیلات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
حکام نے خریداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ فون باکس پر درج IMEI نمبر کا ہینڈ سیٹ پر دکھائے گئے IMEI سے موازنہ کریں اور صرف PTA سے منظور شدہ موبائل فون خریدیں۔
ایس ایم ایس کے ذریعے ڈیوائس کا اسٹیٹس کیسے چیک کریں؟
صارفین ڈیوائس ویری فکیشن سسٹم کے ذریعے IMEI سے منسلک ماڈل کی معلومات چیک کر سکتے ہیں یا 8484 پر ایس ایم ایس کے ذریعے 15 ہندسوں کا IMEI نمبر بھیج کر دیکھ سکتے ہیں۔
موبائل فون میں گڑبڑ کرنے پر سزا کیا ہے؟
پی ٹی اے نے یہ بھی متنبہ کیا کہ ٹیلی کمیونیکیشن ڈیوائسز میں غیر قانونی طور پر تبدیلی، ری پروگرامنگ، یا چھیڑ چھاڑ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت قابل سزا جرم ہے، جس میں تین سال تک قید، 10 لاکھ روپے تک جرمانہ، یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
پی ٹی اے حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ قابل اطلاق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹیکس کی ادائیگی کے ذریعے اپنے موبائل فون کی منظوری حاصل کریں اور بلاتعطل موبائل سروسز کو یقینی بنانے کے لیے رجسٹریشن کے سرکاری طریقہ کار پر عمل کریں۔
Comments
Post a Comment